21 ستمبر 2026 - 16:21
مستقبل کی فیصلہ کن جنگ کی الٹی گنتی؛ یمن اور عراق کا اظہار یکجہتی، مزاحمتی محاذ ہائی الرٹ

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق آئندہ چند ماہ میں خطے کو ایک فیصلہ کن جنگ کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔ ممکن ہے یہ جنگ ستمبر کے آخر میں عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کی تکمیل کی آخری مہلت کے ساتھ شروع ہو جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رمضان جنگ کے آغاز سے اب تک مزاحمتی محاذ نے امت اسلام کے ام القریٰ کے دفاع میں ایران پر امریکہ کے وحشیانہ حملوں کے باعث خود کو دشمن کے خلاف جنگ میں شامل کیا ہے۔ لبنان کی حزب اللہ، جو گزشتہ دو برس سے صیہونیوں کی روزانہ کی جارحیت کا سامنا کر رہی ہے، سے لے کر عراق کے مزاحمتی محاذ تک، سب نے اندرونی سیاسی دباؤ اور عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی امریکی سازشوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاع کے لیے میدان میں موجودگی کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران یمن کے مزاحمتی محاذ نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اعلان تو کیا، تاہم وہ براہ راست امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ لیکن سعودی عرب کی ظالمانہ ناکہ بندی توڑنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ذریعے اس نے تزویراتی آبنائے باب المندب کے راستے امریکہ اور اس کے مغربی و عرب اتحادیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کے حالات پیدا کیے ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق آئندہ چند ماہ میں خطے کو ایک فیصلہ کن جنگ کا سامنا ہوگا جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے دونوں فریقوں کی جانب سے اس جنگ کے لیے کوششیں اور منصوبہ بندی جاری ہے۔

ممکن ہے یہ جنگ ستمبر کے آخر میں شروع ہو جائے

ممکن ہے اس جنگ کی چنگاری ستمبر کے آخر میں عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کی آخری مہلت کے ساتھ بھڑکے۔

عراق کی حکومت نے امریکی سیاسی دباؤ کے تحت ریاست کے ہاتھ میں ہتھیاروں کی اجارہ داری کے منصوبے اور سادہ الفاظ میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کو عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے ساتھ اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔

11 ستمبر 2026 کو سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر حملہ 30 ستمبر کی مقررہ تاریخ سے تقریباً تین ہفتے پہلے ہوا۔ اس اتفاقِ زمانی نے ایک اہم ڈیڈ لائن کے موقع پر عراق کے سیاسی ماحول کو ایک نئی سکیورٹی کشیدگی سے دوچار کردیا ہے۔

امریکہ اور خطے کے امور کے بعض ماہرین نے واضح طور پر کہا ہے کہ حشد الشعبی پر سعودی عرب اور امریکہ کے حملے، اگرچہ سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بہانے کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ ’’ہتھیار حوالے کرنے کی تین ماہ کی مہلت سے بے تعلق نہیں ہیں‘‘۔ سعودی عرب نے عراق کی مزاحمت پر اپنی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر حملے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

عراق کی اسلامی مزاحمت نے سعودی عرب کے الزامات کے جواب میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ہم مظلوم اور محاصرے میں گھرے یمن کے عوام کی حمایت میں عراقی مزاحمت کے مستقل مؤقف کی ایک بار پھر توثیق کرتے ہیں، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حکومت کی جانب سے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم صیہونی-امریکی خبیثانہ منصوبوں کے جال میں پھنسنے سے خبردار کرتے ہیں، جو عراق کو ایسے بحرانوں میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا فائدہ صرف اس ملک کے دشمنوں کو ہوگا۔ عراقی مزاحمت سعودی عرب کے ان الزامات کا بنیادی مقصد ’’عوامی توجہ ہٹانا‘‘ اور ’’یمن کے مقابلے میں سعودی افواج کی مسلسل شکستوں پر پردہ ڈالنا‘‘ سمجھتی ہے۔

ایران میں کتائب سیدالشہداء کے نمائندے ڈاکٹر ’’حسن العبادی‘‘ نے حالیہ پیش رفت اور سعودی عرب کی جانب سے عراقی مزاحمت پر الزامات کے بارے میں کہا: دشمن عراق کو ایسی کشیدگی میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اسلامی مزاحمت پر ایسے اقدامات کا الزام عائد کیا جائے جن میں اس کا کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا: مزاحمت اگر کسی ملک پر حملہ کرنا چاہے تو اسے کسی بھی ملک سے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، خوف نہیں۔ امریکی اور اسرائیلی دشمن بعض ممالک میں چھوٹے گروہوں کی حمایت کرکے اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عراقی مزاحمت کو بدنام کرنے کے لیے سعودی الزامات

العبادی نے کہا: دشمن نے اسلامی مزاحمتی محور کے زیر استعمال ہتھیاروں سے ملتے جلتے ہتھیار تیار کیے ہیں اور ان ہتھیاروں کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتا ہے تاکہ مزاحمت کو بدنام کیا جا سکے۔ اس کے بعد دشمن ان حملوں اور میڈیا میں لگائے جانے والے الزامات کو مسلم عوام کی نظر میں مزاحمت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا: ہم اسلامی مزاحمت اور کتائب سیدالشہداء میں اگر دشمن کے خلاف کوئی جہادی کارروائی کریں گے تو اس کی براہ راست ذمہ داری قبول کریں گے اور اللہ کے سوا کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، لیکن اس طرح کی کارروائیوں کی ذمہ داری ہم قبول نہیں کرتے۔

حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال، ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور دوسری طرف یمن کی جانب سے سعودی عرب کے 12 سالہ محاصرے کو توڑنے کی کوششوں کے پیش نظر مزاحمتی محاذوں کے درمیان یکجہتی کے اعلانات دیکھنے میں آئے ہیں۔

فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہو جائیں

عراقی مزاحمت کی جانب سے یمنی بھائیوں کو یمن کی مزاحمت کی جانب سے سعودی جارح دشمن پر مسلسل طاقتور ضربیں لگانے میں کامیابیوں پر مبارکباد دینے کے بعد انصار اللہ کے سینئر رکن ’’حمید عاصم‘‘ نے عراقی مجاہدین کے نام ایک پیغام میں کہا: ’’فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔‘‘

انہوں نے کہا: عراقی فریق اور بالخصوص عراقی مزاحمت، حشد الشعبی اور عراق کی تحریک نجباء کے اہلکاروں کے بارے میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں اور حملوں میں برکت دے۔ اپنی عزم و ارادے کو مضبوط کریں اور ہمارے اور صیہونی دشمن، امریکی دشمن اور ان کے آلہ کاروں کے درمیان فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہیں۔

عاصم نے تاکید کی: ہم اسے ایک فیصلہ کن جنگ، ایک طاقتور جنگ اور ایک نئی جنگ سمجھتے ہیں جو ہمارے اور امت کے دشمنوں کے درمیان امتیاز واضح کرے گی۔

انہوں نے اس جنگ کا موازنہ جنگ بدر سے کرتے ہوئے کہا: جس طرح جنگ بدر پہلی امتیازی جنگ تھی، اسی طرح یہ جنگ بھی ہمارے اور اس دشمن کے درمیان امتیاز واضح کرنے والی جنگ ہوگی۔ عراق کے عوام عظیم اور بہادر ہیں اور وہ کبھی اپنی امت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اسی لیے جب کہا جاتا ہے کہ اپنے عزم کو پختہ کریں، اپنے ارادے کو مضبوط کریں اور اپنے ہتھیار تیار رکھیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آنے والی جنگ فیصلہ کن ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha